Strict Standards: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, non-static method Anderson_Makiyama_Captcha_On_Login::check_blocked_ips_befor_all() should not be called statically in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/class-wp-hook.php on line 286

Notice: register_sidebar was called incorrectly. No id was set in the arguments array for the "Sidebar" sidebar. Defaulting to "sidebar-1". Manually set the id to "sidebar-1" to silence this notice and keep existing sidebar content. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 4.2.0.) in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 4147

Notice: add_custom_background is deprecated since version 3.4.0! Use add_theme_support( 'custom-background', $args ) instead. in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 3839

Notice: add_custom_image_header is deprecated since version 3.4.0! Use add_theme_support( 'custom-header', $args ) instead. in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 3839

Notice: get_current_theme is deprecated since version 3.4.0! Use wp_get_theme() instead. in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 3839

Notice: get_theme is deprecated since version 3.4.0! Use wp_get_theme( $stylesheet ) instead. in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 3839

Notice: get_themes is deprecated since version 3.4.0! Use wp_get_themes() instead. in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 3839

Notice: wp_register_style was called incorrectly. Scripts and styles should not be registered or enqueued until the wp_enqueue_scripts, admin_enqueue_scripts, or login_enqueue_scripts hooks. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 3.3.0.) in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 4147

Notice: wp_enqueue_style was called incorrectly. Scripts and styles should not be registered or enqueued until the wp_enqueue_scripts, admin_enqueue_scripts, or login_enqueue_scripts hooks. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 3.3.0.) in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 4147

Notice: wp_register_style was called incorrectly. Scripts and styles should not be registered or enqueued until the wp_enqueue_scripts, admin_enqueue_scripts, or login_enqueue_scripts hooks. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 3.3.0.) in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 4147

Notice: wp_enqueue_style was called incorrectly. Scripts and styles should not be registered or enqueued until the wp_enqueue_scripts, admin_enqueue_scripts, or login_enqueue_scripts hooks. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 3.3.0.) in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-includes/functions.php on line 4147

Notice: Undefined index: aiosp_cpostactive in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-content/plugins/all-in-one-seo-pack/aioseop_class.php on line 1393
September, 2010 | Ecenterpk.com
Notice: Undefined index: aiosp_cpostactive in /home/ecenterp/public_html/blog/wp-content/plugins/all-in-one-seo-pack/aioseop_class.php on line 1393

Ecenterpk.com Education Center Pakistan

30Sep/100

کھپرو: وزیر تعلیم کے احکامات کے باوجود بند اسکول تاحال نہیں کھولے جا سکے

کھپرو (نامہ نگار) صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے احکامات کے باوجود تعلقہ کھپرو میں طویل عرصہ سے بند 250 سے زائد پرائمری اسکول تاحال نہیں کھولے جا سکے ہیں۔ تعلقہ کھپرو کی مختلف یونین کونسلوں میں طویل عرصے سے 250 سے زائد پرائمری گرلز اور بوائز اسکول بند بڑے ہیں۔ ان بند اسکولوں میں تعینات اساتذہ محکمہ تعلیم سانگھڑ کے افسران سے مبینہ ملی بھگت کر کے گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں دوسری جانب ان اسکولوں کی عمارتوں پر علاقے کے بااثر افراد اور وڈیروں نے قبضہ کر کے اپنی اوطاقیں قائم کر لی ہیں یا پھر ان اسکولوں کی عمارتوں کو گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ علاقے کے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے اس سلسلے میں کئی بار محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تاہم محکمہ تعلیم کے افسران کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم کے احکامات کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بند اسکولوں کو فوری طور پر کھولا جائے اور ان اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے

بشکریہ جنگ

30Sep/100

فنی تعلیمی اداروں کی فیس میں اضافے کیخلاف جساف کا دھرنا

حیدرآباد (بیورو رپورٹ) جئے سندھ تحریک کی ذیلی تنظیم جساف کی جانب سے سندھ میں فنی تعلیمی اداروں کی فیس میں 400 فیصد اضافے‘ بی ٹیک سیکنڈ ایئر ختم کرنے اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر ایس ٹیوٹا کے صوبائی وزیر اور ایم ڈی کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عرفان کٹوہر‘ شمس بھنگر‘ جمشید چانڈیو و دیگر نے کہا کہ سندھ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل اتھارٹی نے فنی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں 400 فیصد اضافہ اور سیلف فنانس اسکیم شروع کرکے لاکھوں غریب طلباء کو فنی تعلیم سے بھی دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نیالزام لگایا کہ صوبائی وزیر برائے ایس ٹیوٹا اور ایم ڈی ایس ٹیوٹا نے سندھ کے 180 فنی تعلیمی ادارے پرائیوٹ کرنے کے خلاف احتجاج کرنے پر جساف کے مرکزی آرگنائزر سورھیہ سندھی‘ حسین قمبرانی و دیگر کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کراکر انہیں گرفتار کرادیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔

بشکریہ جنگ

29Sep/100

Sargodha: The University of Sargodha will establish the chair of Dr Wazeer Agha

Sargodha: The University of Sargodha will establish the chair of Dr Wazeer Agha at the Urdu Department after the approval of syndicate.

It was disclosed by the varsity's Vice-Chancellor Prof Dr Muhammad Akram Ch while addressing a condolence reference held to pay tribute to Dr Wazeer here on Tuesday. The vice-chancellor said that intellectuals like Dr Wazeer Agha born after centuries and it would be a great tribute to him to make the chair on his name at the university. He said that Wazeer Agha introduced several new theories in Urdu Literature. The death of Dr Wazeer was a great lose, he added. Dr Salim Agha Qazalbash, son of Dr Wazeer Agha, while addressing the ceremony said that his father did several works for progress of Urdu Literature. UoS Urdu Department chairman Dr Tahir Tonsvi, Tariq Habeeb, Riaz Shad, Shakir Kandan, Arshad Malik, Khalid Iqbal and others also spoke. The news

29Sep/100

کراچی سمیت سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں میٹرک کے ضمنی امتحانات میں تاخیر

کراچی (محمد عسکری … اسٹاف رپورٹر) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سمیت سندھ کے 5 تعلیمی بورڈز میں میٹرک کے حتمی امتحانات تاخیر کا شکار ہو گئے، صرف سکھر تعلیمی بورڈ صوبے کا واحد تعلیمی بورڈ ہے جس نے 27 ستمبر سے میٹرک کے ضمنی امتحانات لینا شروع کردیئے۔ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی، سندھ بورڈ آف ٹیکینکل ایجوکیشن، لاڑکانہ تعلیمی بورڈ، حیدرآباد اور میرپورخاص تعلیمی بورڈز کی جانب سے ضمنی امتحانات تاحال شروع نہیں کئے جا سکے ہیں اور نہ ہی ضمنی امتحانات کا شیڈول جاری کیا گیا۔ ضمنی امتحانات تاخیر سے لینے کے باعث ہزاروں طلبا وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے کیونکہ یکم اگست سے کالجز کھل چکے ہیں اورداخلوں کا عمل تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ کلاسیں بھی شروع ہو گئی ہیں جبکہ میٹرک کے سالانہ امتحانات میں ناکام ہونے والے ہزاروں طلبا وطالبات ضمنی امتحانات کے منتظر ہیں تاکہ وہ ضمنی امتحانات میں کامیابی کے بعد داخلہ لے سکیں اگر ضمنی امتحانات اکتوبر کے وسط یا آخر میں ہوئے تو نتائج کے اجراء اور مارکس شیٹ کے حصول میں دو ماہ درکار ہوں گے اسی طرح دسمبر کے آخر یا جنوری میں ان طلبہ کا کالجوں میں داخلہ ملنا بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ کالجوں سے انٹر کے امتحانی فارم بورڈز جانا شروع اور نصف سے زائد تدریس مکمل ہو چکی ہو گی۔ ثانوی تعلیمی بورڈ کے ناظم امتحانات کلیم اصغر کرمانی نے جنگ کو بتایا کہ انٹر کی مرکزی داخلہ کمیٹی کے کام کی وجہ سے ثانوی تعلیمی بورڈ کا کام تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اکتوبر کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں میٹرک کے ضمنی امتحانات لینے کا ارادہ ہے ہماری کوشش ہو گی کہ نتائج کا جلد اجراء کیا جائے تاکہ ضمنی امتحانات پاس کرنے والے طلبہ کالجوں میں داخلہ لے سکیں۔

بشکریہ جنگ

29Sep/100

اعلیٰ تعلیم کی اہمیت پر نظرثانی…ڈاکٹر اشفاق حسن خان

یہ مضمون دراصل میرے سابقہ مضمون ہی کا تسلسل ہے اپنے زیر نظر مضمون میں، میں نے ایک بالکل ہی مختلف زاویئے سے اعلیٰ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ آج دنیا بھر میں معیشت کی بنیاد علم پر رکھی جارہی ہے۔ ایک علم پر مبنی معیشت کا ظہور ہو رہا ہے جس میں معیشت کی ترقی اور فروغ کا تمام تر دارومدار علم اور تعلیم کے کردار پر ہے۔ اعلیٰ تعلیم حصول علم کا ایک بہت بڑا اور اہم ذریعہ ہے جس کے طفیل ہم ایسی معیشت میں اپنی شرکت کو یقینی بناسکتے ہیں جس کی بنیاد علم پر رکھی گئی ہو۔
تعلیم حصول علم کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، بالخصوص اعلیٰ تعلیم کا حصول پاکستان کے لئے ازحد ضروری ہے تاکہ وہ عالمی برادری میں ایک مہذب معاشرے کے طور پر پہچانا جاسکے۔ 1947ء میں برصغیر کے وقت پاکستان کی آبادی 32.5 ملین نفوس پر مشتمل تھی جو 2009-10ء کے دوران بڑھ کر 166.5 ملین تک پہنچ چکی ہے لہٰذا تریسٹھ برس کے اس عرصے میں یا یوں کہہ لیجئے کہ دو نسلوں کے بعد پاکستان کی آبادی میں 134 ملین نفوس کا اضافہ ہو چکا ہے یا اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.6 فیصد سالانہ رہی ہے۔
آج پاکستان میں کہیں زیادہ لوگ کھانے والے ہیں۔ خاندانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جن کے لئے گھروں کی ضرورت ہے زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی ضرورت ہے جب کہ بیشتر لوگ ابھی ملازمتوں کی تلاش میں ہیں اور دیہات اور گاؤں سے بہتر ملازمتوں کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب آبادی کا ایک بڑا حصہ پاکستان کو یہ مواقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ آئند پچاس برس کے دوران اپنی معیشت کی ترقی میں سماجی اعداد و شمار حاصل شدہ فائدوں کو بروئے کار لاسکتا ہے۔
پاکستان کی آبادی میں عمر کے اعتبار سے بھی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جس کے مطابق کام کرنے والی آبادی کے تناسب میں (15-59 برس) کا اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں مواقع کا ایک ایسا دریچہ وا ہو رہا ہے جو آبادی کے اعداد و شمار اور نقل و حرکت کو ملک کے لئے منافع بخش بنا سکتا ہے۔ 1970ء میں بچوں کی پیدائش کا تناسب 6.3 فیصد سالانہ تھا جو کم ہو کر 3.6 فیصد رہا ہے۔ کام کرنے والی آبادی کا تناسب بھی بڑھ چکا ہے جب کہ نوجوانوں کی آبادی میں اضافے کے لحاظ سے پاکستان نوجوانوں کے ملک میں شمار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک سو چار ملین لوگوں کی عمر تیس برس سے کم 90 ملن افراد انیس برس سے کم اور چالیس ملین آبادی دس سے لیکر انیس برس عمر کی ہے جو چند برس کے عرصے میں جامعات میں داخل کی اہل ہو گی۔ 90 ملین افراد پر مشتمل یہ نوجوان آبادی بالخصوص چالیس ملین نوعمر افراد پاکستان کے مستقبل اور مہذب معاشرے کی تخلیق کے لئے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں جو نہایت فعال طریقے علم پر مبنی عالمی معیشت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ آبادی کی موجودہ صورتحال کو ہم اپنے فائدے میں کیسے استعمال کرسکتے ہیں جو پاکستان کے مستقبل کے لئے ایک حقیقی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے یہ طریقہ کار اتنا آسان اور سہیل نہیں ہوگا اس فائدے اور منافع کے حصول کی غرض سے عوام صحت تعلم تربیت پر بہت وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے بعد ہی فوائد کا حصول ممکن ہو پائے گا مشرقی ایشیا میں کامیابی کے ساتھ 1970ء کے عشرے میں یہ فائدے حاصل کئے جاچکے ہیں پاکستان کے لئے یہ ایک نادر اور خصوصی موقع ہے جو ہمیشہ ہاتھ نہیں آئے گا پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی متبادل نہیں کہ وہ اس نادر موقع ہے فوری طور پر فائدہ اٹھائے اور عوامی سرمایہ کاری کا آغاز کردے۔ اگر ہم اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تعمیری شہریوں میں تبدیل کرنے میں یکسر ناکام رہے تو سمجھ لیجئے پاکستان کا مستقبل تاریک ہو جائے گا کیا ہم اس کے متحمل ہو سکیں گے؟؟؟
اس پس منظر میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بے انتہا اہمیت کی حامل ہے بدقسمتی سے جب کبھی اس ملک کو بجٹ میں کسی کٹوتی کا مسئلہ درپیش ہوا ہے تو تمام تر نزلہ انہی دو اہم ترین شعبوں پر گرا ہے موجودہ صورتحال بھی اسی کارروائی کی ایک زندہ مثال ہے کوئی بھی جامعہ ہو معیاری تعلیم کے ذریعے اعلیٰ درجے کی افرادی قوت کو جنم دیتی ہے اور ایسے گریجویٹس کو پیدا کرتی ہے جو اسکول اور کالج کے طلباء کو پڑھا سکیں چنانچہ تعلیم اور تدریس کے معیار کا تمام تر انحصار ان گریجویٹس کے معیار پر ہوتا ہے جو جامعات سے تعلیم حاصل کر کے آتے ہیں اور ان کی تعلیم اور اس کے معیار کا تمام تر دارومدار ان ذرائع اور وسائل پر ہوتا ہے جو حکومت ان جامعات کو فراہم کرتی ہے۔
تاہم پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو دی جانے والی اہمیت فی الحال توقعات سے بہت کم ہے پاکستانی جامعات 2002ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل ذرائع اور وسائل کی شدید قلت کا شکار رہی ہے۔ کمیشن کے قیام کے بعد جامعات کو خاطر خواہ وسائل مہیا کئے گئے جس کے نتیجے میں جامعات بھی تعلیم میں معیار اور مقدار کے اعتبار سے غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ آٹھ سال کی مختصر سی مدت ہی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے اندراج میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جامعات کی تعداد دگنی سے زیادہ ہو گئی ہے پاکستانی جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی تعداد چار گنا ہو گئی چار ہزار طلبہ کو غیر ملکی جامعات سے پی ایچ ڈی کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا اتنی ہی بڑی تعداد میں طلبہ پاکستانی جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تکمیل میں مصروف ہیں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جامعات میں درس و تدریس کو ایک باوقار اور آبرومندانہ پیشہ سمجھا جانے لگا ہے۔
لیکن موجودہ حکومت نے تعلیم کے معیار اور مقدار میں مزید اضافے کی غرض سے وسائل مہیا کرنے کے بجائے بجٹ میں ہی کٹوتی شروع کردی حالاں کہ ابھی سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کے اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے تھے اگر ہم تعلیم اعلیٰ تعلیم صحت اور تربیت کے شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور ان کی ترقی کے لئے معقول وسائل مہیا نہیں کریں گے تو ہم اپنے لاکھوں نوجوانوں کو ایک تعمیری اور ذمے دار پاکستانی شہری بنانے میں یکسر ناکام رہیں گے ان شعبوں میں سرمایہ کاری بہر صورت اور بہر قیمت ضروری ہے پاکستانی جامعات کو حکومت کی جانب سے امدادی رقومات کی فوری اور اشد ضرورت ہے وزارت خزانہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اخراجات کی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرے وائس چانسلر حضرات کو یہ لیکچر دینے سے قبل کہ وہ اپنے اخراجات کی ترجیحات کا تعین کریں وزارت خزانہ کو خود آگے بڑھ کر اپنی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ خیرات کی ابتداء اپنے ہی گھر سے کی جاتی ہے۔

بشکریہ جنگ

27Sep/100

Quality education in Pakistan Education at local levels

August: Equal access to high-quality education is imperative for the development of a country. Among the factors that affect the quality and accessibility of education are qualified teachers, adequate facilities, proper funding, comprehensive curriculums, affordable tuition fees and the availability of scholarships. All of these factors are dependent to a certain degree on budget. For accessible quality education, a serious financial commitment by the federal government is necessary, but often not sufficient to support education spending at institutions.

Involvement of local government in increasing the education budget is essential and can play a major role in improving the status of local educational institutions. If and when municipal, district and provincial funding is insufficient to meet targets for accessible quality education, it is crucial for the survival of the institutions to demand that their representatives increase the budget. In addition, education institutions must seek out other sources beyond public funding, such as contributions from local businesses, community members, philanthropists, corporations or private funds as endowments.

Investing in the future
Accessible education is one of the most pressing issues in Pakistan. Unfortunately, neither the government, nor the private sector is doing enough to promote access and provide assistance to the needy to attend schools, especially institutions of higher learning. With a majority of young people (63 per cent of the population is currently under the age of 25 years), the government must provide affordable education and training opportunities or risk a very bleak economic and social future.

Public education spending must be increased markedly at provincial and district levels to encourage young people to gain skills that can be used within the community. Without proper qualifications, municipalities will suffer a severe shortage of professional services leading to poor overall welfare while their youth will seek better opportunities in other places.

Leaders of local communities must become aware of the importance that education and training have on employment and local businesses. In addition to the economic return to individuals and to society as a whole, higher education improves quality of life in a variety of other ways, including better health practices, social variables such as participation in charities and volunteer work, and the better education of children ("Investing in higher education", Dawn Education, Nov 11, 2007).

Thus, the burden of increasing funding for education must be shared not just by the federal government, but also by the provincial, district, and municipal administrations, as well as by the educational institutions and the communities they serve. Investing in education carries significant economic benefits not just for the individual but is also crucial to the prosperity of local communities.

Education spending in provinces and in turn in districts is dependent upon the provincial shares distributed by the federal divisible pool based on the population and a province's own resources allocated to education. According to a study by Husain and others (The Pakistan Development Review, 2003), there was a strong correlation between the district's allocation of funds to education and its literacy rates. Districts with very low literacy rates had also allocated the least amount of funds to education. Thus, provincial education funding and its proper allocation directly impact the level of education in a particular geographic area.

Empowering institutions
Local empowerment of education institutions is very important for the community. Easy access to schools, affordable tuition fees, available scholarships, and relevant training courses translate to future employment of the students. If these opportunities are not available locally, young people would have no alternative but to leave for another city that offers some employment or education opportunities or find work as an unskilled worker and perhaps even seek other ways, not always legitimate, to generate income.

When education provides training opportunities locally, young people have better chances of finding jobs, supporting their families and investing back in their community by becoming consumers and clients of local services. Thus, the whole community has a strong interest in investing to improve education quality, access and relevance, as it is investing directly in its own wellbeing and future.

While the task of providing education for an increasing urban population and expanding education services to the distant rural areas seems daunting, there are many steps that can be taken to start reform locally. In large urban communities such as Karachi, Lahore, Rawalpindi, Faisalabad and Peshawar there is an urgent need for inclusive public education. A great example of providing such public service successfully is the City University of New York (CUNY) in New York City.

CUNY was established as the Free Academy in 1847, and later included many existing as well as new education institutions, becoming the poor man's Harvard. CUNY is the third-largest university system in terms of enrollment, in the United States, just behind the State University of New York (SUNY) and California State University systems. The main feature of CUNY is its accessibility to minorities, and other financially disadvantaged groups that cannot afford the cost of private education.

Thus, CUNY offers educational opportunities and opens the door to the children of many immigrants, giving them the opportunity to earn undergraduate and graduate degrees. More than 260,000 degree-credit students and 273,000 continuing and professional education students are enrolled at campuses located in all five New York City boroughs.

It is the largest urban university in the United States, consisting of 23 institutions: 11 senior colleges, six community colleges, the William E. Macaulay Honors College at CUNY, the doctorate-granting Graduate School and University Centre, the City University of New York School of Law, CUNY Graduate School of Journalism, and the Sophie Davis School of Biomedical Education.

The Honors College accepts several hundred "University Scholars" into its ranks each year, offering a free laptop and free tuition to exceptional high school students. CUNY colleges have produced 12 Nobel laureates along with hundreds of prominent politicians, doctors, actors and lawyers, but most importantly have provided educational opportunities to some of the most marginalised citizens, giving them an opportunity to better their lives.

CUNY grew to its current extent and level partly due to demand and the pressure of the expanding immigrant and economically disadvantaged population in New York City. The fundraising campaign "Invest in CUNY, Invest in New York: Expanding the Vision," surpassed its first goal to raise $1.2 billion from private sources and is now trying to reach $3 billion by 2015. The success of this ambitious goal is due partly to a very active fundraising campaign and CUNY's community involvement. CUNY programmes reflect the needs of the community for affordable, quality education and professional training.

To fill this need of the community it serves, CUNY puts pressure not only on the municipal and provincial governments that sometimes are unable to support demand, but privately raises funds from community members, alumni, major philanthropists and successful local businesses. Donors to this cause understand that they are not just giving back to their communities for a charitable cause, but they are, most importantly, investing in improving their community, and thus their own welfare by providing education and training opportunities to those who can not afford them.

In the recent CUNY fundraising campaign, more than 200 donors, most of whom are CUNY graduates, gave $1 million, topped by a bequest for $25 million as a gift for a new school of architecture. Such donations, coming from alumni are extremely important for education institutions such as CUNY that aim at helping needy students.

This visionary campaign allows CUNY to support students in the form of endowments and scholarships to help attract top students, recruit eminent scholars and professionals as fulltime faculty, support new programmes, facilitate ground-breaking research, as well as provide funds for facilities and equipments.

Education institutions in local provinces must follow the example of CUNY and activate local resources, alumni and other tools to raise funds to support their current and future education needs. A very useful lesson to be learned from the CUNY campaign is that the fundraising campaign was driven by initiatives based at the campuses. Colleges can and must strategically plan similar fundraising campaigns by identifying programme priorities and setting up timelines to achieve their targets.

Education institutions produce many successful professionals that would be very happy and willing to give back to their alma mater institution if they are approached with the right programme. Local businesses will contribute as well. Many businesses would be happy to invest in a new programme that targets their needs. A telephone company can be approached for funds to support a course in engineering, or training for phone operators or technicians.

More technical programmes tailored to the need of the community can be added to the school curricula, thus expanding the schools capacity as well as better serving the community. The higher the education an individual receives, the better are his or her benefits, and the more the community where he or she lives profits as a direct consequence of this education.

An investment
Fundraising campaigns for educational institutions require strategic planning, setting timelines, and realistic goals. They also need the leadership and visions of the vice chancellors and principals of the institutions as well as the leadership of other visionary philanthropists in the community that understand the importance of these programmes.

There can be a variety of fundraising campaigns, from supporting a specific programme, a new building or school, or just financially supporting the education of needy students through scholarships. In the long term, however, local education institutions must have specific goals that they should aim to achieve. These goals, depending on the need of the institution, can be achieved through a variety of sources.

Funds can be tapped through federal or provincial government, establishing annual fundraising campaigns targeting local businesses, alumni and community leaders, or by setting up endowment funds ("Funds for Higher Education Institutions" Dawn, Sept 6, 2009).

It is crucial for the survival of educational institutions and the communities they serve to start paying attention to these matters by designating offices and people that work specifically on institutional fund advancement. Such offices can plan, prioritize and organise existing resources to maximize an education budget.

In addition, designated officers can spend time with community leaders, and local businesses to strengthen community links and provide better services to their community through accessible, quality and relevant education. The institution must have records of the donations that the fundraising office has received and how they have applied these donations. Transparency and accountability are very important to donors, and also encourage new donations for worthy programmes. -By Rudina Xhaferri and Khalid Iqbal (The writers work for the Promotion of Education in Pakistan Foundation, Inc., USA.) Dawn

27Sep/101

Private education goes further beyond parents’ reach

Lahore, Sept 27: The private sector schools have this year again squeezed parents by raising their already exorbitant fees from 10 to over 20 per cent, making a mockery of Punjab government's tall claims regarding its intention to regulate the sector.

As students returned to their schools after prolonged summer vacation, they were issued fee vouchers with enhanced fees ranging from 10 to 20 per cent, and in certain cases as high as 45 per cent. The impact of the fee raise ranges up to Rs3,000 and more in certain cases.

Punjab school education secretary Aslam Kamboh admitted the private sector was becoming problematic for the government in the absence of any regulatory authority. He said the private schools were raising fees arbitrarily without considering parents' problems.

While no regulatory authority has yet been established for the sector, most parents are protesting against the fee raise in the backdrop of high inflation coupled with recession in the country. Some of the affected parents even staged small protests outside school campuses and submitted fee concession applications.

Some parents said that they were unable to pay the raised fees and felt compelled to withdraw their kids from schools and get them admitted to some relatively low-fee institutions during the next academic session.

Some others complained the schools were charging enhanced fee for providing air-conditioned classrooms to their wards even after the summer vacation when the weather had changed.

It is learnt the Salamat School System has raised fees up to Rs2,000 and the Beaconhouse School System to Rs2,500 and so is the case with Lahore Grammar School, Crescent Model Higher Secondary School and other private school chains. It is learnt that the Aitchison College has also increased fee substantially.

Besides the elite private schools and chains, the parents have equally been squeezed by various low-fee institutions. The Punjab School is one such example which added Rs500 to its roughly Rs2,000 fee despite parents' protest. It is learnt that some of the parents turned violent when they pelted the school office with stones and on another day they clashed with some school employees over the issue.On the other hand, the private schools' managements blame inflated utility bills, particularly those of electricity, besides other overheads, and the increases teachers' salaries for the fee raise.

Beaconhouse School System spokesman Tabraiz Bukhari said parents were never happy, when a school enhances its fee. He said the parents conveniently ignore the economics of a business entity. "It is not an NGO, but a private limited entity," he added.

He said the BSS did not increase fee by 15 per cent to enhance its profits, but the decision had to be taken to meet the ever increasing running expenses. He said the school system needed to meet rising costs in terms of increased salaries, rent of buildings and above all the rocketing power bills along with additional generators' operation cost. BSS faculty members have been given pay raises from five to 20 per cent, he claimed.

Punjab School Chief Executive Syed Ihsanullah Waqas dispelled the protest 'rumours' saying some people belonging to the PML-N were protesting and added that he kept politics out of the school campuses.

He said the school was compelled to enhance fee just because the school's salary bill had increased by Rs3.2 million a month. He said the government increased 50 per cent salaries and the school had to pay teachers more, otherwise they would have switched over to other schools for higher pays. He said the school's electricity bill had also increased from Rs150,000 to Rs200,000 per month, besides around Rs300,000 bill for the diesel used to run generators.

Chief Minister's Taskforce on Elementary Education chairman Raja Muhammad Anwar said a special 20-member committee had drafted a law after a year-long hectic exercise. The proposed "Private Educational Institutions Promotion and Regulatory Authority" bill was sent to the law department for whetting and its onwards submission to the Punjab Assembly for its enactment.

"The enactment of law was delayed because of serious reservations expressed by private sector schools," he added. Dawn

27Sep/100

HEC finds six more degrees fake or invalid

salamabad, Sept 27: The Higher Education Commission has so far verified educational degrees of 439 lawmakers and held 55 degrees as fake or invalid, informed sources said.

Fresh in the list of those found to be holding fake or invalid degrees include member of the National Assembly Mazhar Hayat (NA-138), members of the Punjab Assembly Shaukat Aziz (PP-4), Irshad Ahmad Khan (PP-254), Rana Abdul Rauf (PP-279) and Shabina Riaz (reserved seat), and member of the Sindh Assembly Jam Saifullah Khan Dharejo.

Those who have been given clean chit by the HEC recently include Senators Javed Ashraf Qazi (PML-Q), Tahir Hussain Mashadi (MQM) and Gul Mohammad Memon, Gul Mohammad Lot (PPP); MNAs Kishan Chand Parwani, Dr Darshan, Dr Mahesh Kumar and Sardar Jafar Khan Leghari; members of the Punjab Assembly Dr Ghazala Raza Rana, Mohammad Hafeez Akhtar Chaudhry and Shahid Khalil Noor; and members of the Balochistan Assembly Mohammad Nawaz, Sultan Mohammad, Ghazala Gohar, Jai Parkash; and member of the Sindh Assembly Ghulam Mohammad Shahani.

The ruling PPP continues to top the list of fake and dubious degree-holding lawmakers with 16, followed by PML-N and PML-Q.

Sources in the Election Commission said that the fifth hearing of the cases of lawmakers accused of holding fake or invalid degrees would be held on Sept 30. They said MNA Ahmadan Khan and members of the Balochistan Assembly Yar Mohammad and Shama Parveen Magsi would appear before the committee headed Mohammad Afzal Khan, the nominated officer of the Election Commission.

They said the hearing would take place also on Oct 4 and Oct 11 and the process of initial hearing to enable legislators to express their viewpoint would be completed by the end of October. Dawn

26Sep/100

پنجاب حکومت کی عملی امتحانات کے نمبر مزید کم کرنے کی تجویز

پنجاب حکومت نے میٹرک اور انٹر کے عملی امتحانات کے نمبر مزید کم کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ یہ تجویز ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کی کمیٹی انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین کے اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کی طرف سے تجویز دی گئی کہ میٹرک اور انٹر کے نتائج کو مزید شفاف بنانے اورعملی امتحانات میں کالج اور اسکول کا کردار کم کرنے کے لئے عملی امتحانات کے نمبر 15 سے بھی کم کئے جائیں جس کے بعد طے کیا گیا کہ ہر صوبے سے ایک تعلیمی بورڈ کا چیئرمین لے کر کمیٹی بنائی جائے، جو اس حوالے سے سفارشات مرتب کرے اور اس سفارش کو آئی بی سی سی کے دسمبر 2010ء کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے۔
یاد رہے کہ دو سال قبل عملی امتحانات کے نمبر 25 سے کم کر کے 15 کئے گئے تھے۔ اجلاس میں سندھ کی نجی یونیورسٹی کی جانب سے انٹر اور میٹرک کے امتحان لینے کی درخواست اتفاق رائے سے مسترد کر دی گئی۔
اجلاس میں ٹیکنیکل مضامین کی تدریس کے لئے تشکیل دیئے جانے والے ٹیوٹا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس میں اجلاس نے ٹیوٹا کی جانب سے میٹرک کے سطح کے امتحان کو میٹرک ٹیکنیکل کے بجائے ووکیشنل ڈپلومہ کا نام دینے کی منظوری دیدی جبکہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے اسکاؤٹس کو دیئے جانے والے اضافی نمبروں کی تجویز پر ہر صوبے سے ایک تعلیمی بورڈ کا چیئرمین لے کر کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی دسمبر کے اجلاس میں حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔
شکریہ جنگ

Filed under: Uncategorized No Comments